اور حاتم طائی نے جب،
اسم اعظم پڑ ھ کے ،
ان پر دم کیا۔
پیڑ پر لٹکے ہوئے سر،
گر پڑے تالاب میں ،
اپنے جسموں سے گلے مل کر،
نہایت خوش ہوا پریوں کا غول۔
مہ لقاؤں میں جو سب سے خوب تھی،
شکریے کے طور پر حاتم سے ہم بستر ہوئی۔
یہ بدن ہی سے بدن کا تھا ملاپ،
جسم اور سر کا نہیں ۔
اس واسطے ،
اسم اعظم کا اثر جاتا رہا،
تب سے ،
حاتم طائی کا سر،
جھُولتا ہے پیڑ پر۔
اور،
دھڑ تالاب میں ڈوبا ہوا ہے !
اسے دیکھ کر
ساری تہذیب جیسے ہوا ہو گئی۔
میں اسے دیکھ کر،
دیکھتا رہ گیا۔
جی میں آیا کہ سینے میں رکھ لوں اسے ،
واقعی نا مکمل ہے میرا وجود۔
مجھ سے چھینی گئی تھی جو روزِ ازل،
وہ یہی ہے ۔
مری بائیں پسلی،
یہی ہے !!
